ممبئی23فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیوسینا نے ہفتہ کو ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کا نیا رخ یہ ہے کہ رام مندر مسئلے کو عارضی طور پر کنارے رکھا جائے اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر کشمیر کے مسئلے کو ترجیح دی جائے،کیونکہ یہ ملک میں موجودہ ماحول کے مناسب ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ چونکہ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کا مجوزہ مہاگٹھ بندھن ملک میں کبھی استحکام اور امن نہیں لا سکتے، لہٰذا آر ایس ایس کا بدلا ہوا رویہ ایک طرح سے ملک کے لیے مناسب ہے۔شیوسینا نے کہاہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات گزشتہ70 سال کے پہلے سے بھی زیادہ خراب ہیں۔کشمیری پنڈتوں کی’’گھر واپسی‘‘ کے بارے میں تو بھول ہی جائیں، اب مسلم نوجوان بھی روزگار کی تلاش میں کشمیر سے فرار ہو رہے ہیں۔پارٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے اثرات کی وجہ سے ملازمتوں کا فقدان ہوگیاہے۔دہشت گردی کی وجہ سے اب کشمیری نوجوان روزگار کی تلاش میں کشمیر سے باہر جانے لگے ہیں۔اگرچہ، شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں دعویٰ کیاہے کہ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایاگیاہے۔پارٹی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے پروپیگنڈہ کیے گئے اس نعرے کو دہرانے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھائے جس میں مستحکم حکومت اور ایک مضبوط وزیر اعظم کا انتخاب کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ شیوسینانے پلوامہ جیسے واقعات روکنے کے لیے ملک میں ایک مستحکم حکومت کی ضرورت بتائی۔گزشتہ 14 فروری کو جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے ایک قافلے پر ہوئے فدائین حملے میں اس نیم فوجی دستے کے کم از کم 40 جوان شہید ہوئے تھے۔ بی جے پی کے ساتھ انتخاب سے قبل اتحاد طے کرنے اور سیٹوں کی تقسیم پر سمجھوتہ ہونے کے کچھ دنوں بعد لکھے گئے اس اداریہ میں شیوسینا پہلے مندر، پھر حکومت کے اپنے پہلے کے موقف سے پلٹتی ہوئی نظر آئی اور اب اس نے کہا ہے کہ بھگوان سے زیادہ اہم ملک ہے۔ اگرچہ، شیوسینا نے سوال کیا کہ کیا رام مندر2019 کے انتخابات کے بعد بھی بنے گا۔شیوسینا نے کہاہے کہ سنگھ پریوار نے رام مندر کے معاملے کو کنارے رکھ کر پلوامہ اور کشمیر جیسے موضوعات پر توجہ دینے کا فیصلہ کیاہے۔آر ایس ایس کا یہ بھی ماننا ہے کہ کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے ملک کو ایک مضبوط اورمستحکم حکومت کی ضرورت ہے۔اداریہ کے مطابق سنگھ کا خیال ہے کہ دہشت گردی کو اس وقت تک نہیں شکست دی جا سکتی جب تک مرکز میں مستحکم حکومت اور ایک مضبوط وزیر اعظم نہیں ہو گا۔شیوسینا نے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ سنگھ اب چاہتا ہے کہ اس کے رضاکار ایودھیا میں رام مندرکی تعمیرکے بارے میں بات کرنے کی بجائے پلوامہ حملے کے بارے میں لوگوں کو بیدار کریں۔ پارٹی نے کہاہے کہ اب آر ایس ایس کو لگ رہا ہے کہ لوگوں کی توجہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، یکساں سول کوڈ، دفعہ 370 کو ختم کرنے جیسے مسائل سے ہٹاکرکشمیراورپلوامہ جیسے مسائل اور ایک مستحکم حکومت منتخب کرنے کی طرف اپنی طرف کی جاسکتی ہے۔ بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے ادھوٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی نے کہا کہ مرکز کی موجودہ حکومت گزشتہ پانچ سال میں پاکستان پر لگام لگانے میں ناکام رہی ہے۔